اسے کہو جو بلاتا ہے گہرے پانی میں
کنارے سے بندھی کشتی کا مسئلہ سمجھے
اظہر فراغ
ٹھہرنا بھی مرا جانا شمار ہونے لگا
پڑے پڑے میں پرانا شمار ہونے لگا
اظہر فراغ
تیز آندھی میں یہ بھی کافی ہے
پیڑ تصویر میں بچا لیا جائے
اظہر فراغ
تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے اگر تجھ کو قبول
یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے
اظہر فراغ
میری نمو ہے تیرے تغافل سے وابستہ
کم بارش بھی مجھ کو کافی ہو سکتی ہے
اظہر فراغ
منظر شام غریباں ہے دم رخصت خواب
تعزیے کی طرح اٹھا ہے کوئی بستر سے
اظہر فراغ
میں جانتا ہوں مجھے مجھ سے مانگنے والے
پرائی چیز کا جو لوگ حال کرتے ہیں
اظہر فراغ
محسوس کر لیا تھا بھنور کی تھکان کو
یونہی تو خود کو رقص پہ مائل نہیں کیا
اظہر فراغ
کچھ نہیں دے رہا سجھائی ہمیں
اس قدر روشنی کا کیا کیجے
اظہر فراغ

