EN हिंदी
اختر ہوشیارپوری شیاری | شیح شیری

اختر ہوشیارپوری شیر

46 شیر

سیلاب امنڈ کے شہر کی گلیوں میں آ گئے
لیکن غریب شہر کا دامن نہ تر ہوا

اختر ہوشیارپوری




تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری
وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری

اختر ہوشیارپوری




تمام حرف مرے لب پہ آ کے جم سے گئے
نہ جانے میں کہا کیا اور اس نے سمجھا کیا

اختر ہوشیارپوری




ٹکرا کے سر کو اپنا لہو آپ چاٹتے
اچھا ہوا کہ دشت میں دیوار و در نہ تھے

اختر ہوشیارپوری




شاید اپنا ہی تعاقب ہے مجھے صدیوں سے
شاید اپنا ہی تصور لئے جاتا ہے مجھے

اختر ہوشیارپوری




سر پہ طوفان بھی ہے سامنے گرداب بھی ہے
میری ہمت کہ وہی کچا گھڑا ہے دیکھو

اختر ہوشیارپوری




نکل کر آ گئے ہیں جنگلوں میں
مکاں کو لا مکاں کرنا پڑا ہے

اختر ہوشیارپوری




مری گلی کے مکیں یہ مرے رفیق سفر
یہ لوگ وہ ہیں جو چہرے بدلتے رہتے ہیں

اختر ہوشیارپوری




نہ جانے لوگ ٹھہرتے ہیں وقت شام کہاں
ہمیں تو گھر میں بھی رکنے کا حوصلا نہ ہوا

اختر ہوشیارپوری