EN हिंदी
احمد عطا شیاری | شیح شیری

احمد عطا شیر

28 شیر

پھر کوئی دور ہوا جاتا ہے
پھر کوئی دل کے قریب آئے گا

احمد عطا




نارسائی نے عجب طور سکھائے ہیں عطاؔ
یعنی بھولے بھی نہیں تم کو پکارا بھی نہیں

احمد عطا




میں اس کی آنکھوں کے بارے میں کچھ نہیں کہتا
افق سے تا بہ افق اک جہاں سمجھ لیجے

احمد عطا




میں تو مٹی ہو رہا تھا عشق میں لیکن عطاؔ
آ گئی مجھ میں کہیں سے بے دماغی میرؔ کی

احمد عطا




میں تیری روح میں اترا ہوا ملوں گا تجھے
اور اس طرح کہ تجھے کچھ خبر نہیں ہونی

احمد عطا




آج دیکھا ہے اسے ایسی محبت سے عطاؔ
وہ یہی بھول گیا اس کو کہیں جانا تھا

احمد عطا




کیا ہوئے لوگ پرانے جنہیں دیکھا بھی نہیں
اے زمانے ہمیں تاخیر ہوئی آنے میں

احمد عطا




کوئی گماں ہوں کوئی یقیں ہوں کہ میں نہیں ہوں
میں ڈھونڈھتا ہوں کہ میں کہیں ہوں کہ میں نہیں ہوں

احمد عطا




کوئی ایسا تو ترے بعد نہیں رہنا تھا
حالت ہجر کو افتاد نہیں رہنا تھا

احمد عطا