نظر کی موت اک تازہ المیہ
اور اتنے میں نظارہ مر رہا ہے
عبد الاحد ساز
پیاس بجھ جائے زمیں سبز ہو منظر دھل جائے
کام کیا کیا نہ ان آنکھوں کی تری آئے ہمیں
عبد الاحد ساز
پس منظر میں 'فیڈ' ہوئے جاتے ہیں انسانی کردار
فوکس میں رفتہ رفتہ شیطان ابھرتا آتا ہے
عبد الاحد ساز
نیند مٹی کی مہک سبزے کی ٹھنڈک
مجھ کو اپنا گھر بہت یاد آ رہا ہے
عبد الاحد ساز
نیک گزرے مری شب صدق بدن سے تیرے
غم نہیں رابطۂ صبح جو کاذب ٹھہرے
عبد الاحد ساز
مفلسی بھوک کو شہوت سے ملا دیتی ہے
گندمی لمس میں ہے ذائقۂ نان جویں
عبد الاحد ساز
مری رفیق نفس موت تیری عمر دراز
کہ زندگی کی تمنا ہے دل میں افزوں پھر
عبد الاحد ساز
رات ہے لوگ گھر میں بیٹھے ہیں
دفتر آلودہ و دکان زدہ
عبد الاحد ساز
مشابہت کے یہ دھوکے مماثلت کے فریب
مرا تضاد لیے مجھ سا ہو بہو کیا ہے
عبد الاحد ساز

