EN हिंदी
عبد الاحد ساز شیاری | شیح شیری

عبد الاحد ساز شیر

36 شیر

مرے مہ و سال کی کہانی کی دوسری قسط اس طرح ہے
جنوں نے رسوائیاں لکھی تھیں خرد نے تنہائیاں لکھی ہیں

عبد الاحد ساز




سازؔ جب کھلا ہم پر شعر کوئی غالبؔ کا
ہم نے گویا باطن کا اک سراغ سا پایا

عبد الاحد ساز




شاعری طلب اپنی شاعری عطا اس کی
حوصلے سے کم مانگا ظرف سے سوا پایا

عبد الاحد ساز




شعر اچھے بھی کہو سچ بھی کہو کم بھی کہو
درد کی دولت نایاب کو رسوا نہ کرو

عبد الاحد ساز




شکست وعدہ کی محفل عجیب تھی تیری
مرا نہ ہونا تھا برپا ترے نہ آنے میں

عبد الاحد ساز




شعلوں سے بے کار ڈراتے ہو ہم کو
گزرے ہیں ہم سرد جہنم زاروں سے

عبد الاحد ساز




وہ تو ایسا بھی ہے ویسا بھی ہے کیسا ہے مگر؟
کیا غضب ہے کوئی اس شوخ کے جیسا بھی نہیں

عبد الاحد ساز




یادوں کے نقش گھل گئے تیزاب وقت میں
چہروں کے نام دل کی خلاؤں میں کھو گئے

عبد الاحد ساز




زمانے سبز و سرخ و زرد گزرے
زمیں لیکن وہی خاکستری ہے

عبد الاحد ساز