EN हिंदी
دوست شیاری | شیح شیری

دوست

53 شیر

دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں
دوستوں کی مہربانی چاہئے

my heartbreak's not complete, it pends
I need some favours from my friends

عبد الحمید عدم




دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

احمد فراز




جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے
تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے

احمد فراز




تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

احمد فراز




تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

احمد فراز




عرشؔ کس دوست کو اپنا سمجھوں
سب کے سب دوست ہیں دشمن کی طرف

عرش ملسیانی




اپنے بیگانے سے اب مجھ کو شکایت نہ رہی
دشمنی کر کے مرے دوست نے مارا مجھ کو

ارشد علی خان قلق