EN हिंदी
ساحر لدھیانوی شیاری | شیح شیری

ساحر لدھیانوی شیر

66 شیر

پھر کھو نہ جائیں ہم کہیں دنیا کی بھیڑ میں
ملتی ہے پاس آنے کی مہلت کبھی کبھی

ساحر لدھیانوی




میرے خوابوں میں بھی تو میرے خیالوں میں بھی تو
کون سی چیز تجھے تجھ سے جدا پیش کروں

ساحر لدھیانوی




مری ندیم محبت کی رفعتوں سے نہ گر
بلند بام حرم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے

ساحر لدھیانوی




محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے
زمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نے

ساحر لدھیانوی




نالاں ہوں میں بیداریٔ احساس کے ہاتھوں
دنیا مرے افکار کی دنیا نہیں ہوتی

ساحر لدھیانوی




رنگوں میں تیرا عکس ڈھلا تو نہ ڈھل سکی
سانسوں کی آنچ جسم کی خوشبو نہ ڈھل سکی

ساحر لدھیانوی




سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے
اک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہے

ساحر لدھیانوی




میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا

ساحر لدھیانوی




پھر نہ کیجے مری گستاخ نگاہی کا گلا
دیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کو

ساحر لدھیانوی