پھر وہی کنج قفس ہے وہی صیاد کا گھر
اور دو روز ہوا باغ میں کھا لے بلبل
رند لکھنوی
مژدہ باد اے بادہ خوارو دور واعظ ہو چکا
مدرسے کھودے گئے تعمیر مے خانہ ہوا
رند لکھنوی
مزا پڑا ہے قناعت کا عہد طفلی سے
میں سیر ہو کے نہ پیتا تھا شیر مادر کو
رند لکھنوی
موت آ جائے قید میں صیاد
آرزو ہو اگر رہائی کی
رند لکھنوی
مے کش ہوں وہ کہ پوچھتا ہوں اٹھ کے حشر میں
کیوں جی شراب کی ہیں دکانیں یہاں کہیں
رند لکھنوی
مے پلا ایسی کہ ساقی نہ رہے ہوش مجھے
ایک ساغر سے دو عالم ہوں فراموش مجھے
رند لکھنوی
لیلیٰ مجنوں کا رٹتی ہے نام
دیوانی ہوئی ہے بک رہی ہے
رند لکھنوی
لائے گی گردش میں تجھ کو بھی مری آوارگی
کو بہ کو میں ہوں تو تو بھی در بدر ہو جائے گا
رند لکھنوی
کیا سن چکے ہیں آمد فصل بہار ہاتھ
جاتے ہیں سوئے جیب جو بے اختیار ہاتھ
رند لکھنوی

