شعر و سخن کا شہر نہیں یہ شہر عزت داراں ہے
تم تو رساؔ بد نام ہوئے کیوں اوروں کو بد نام کروں
رسا چغتائی
شہر میں جیسے کوئی آسیب ہے
شہر میں مدت سے ہنگامہ نہیں
رسا چغتائی
صحرائے بے خیال میں جل تھل کہاں کے ہیں
آخر ہوائے شوق یہ بادل کہاں کے ہیں
رسا چغتائی
مٹی جب تک نم رہتی ہے
خوشبو تازہ دم رہتی ہے
رسا چغتائی
کون دل کی زباں سمجھتا ہے
دل مگر یہ کہاں سمجھتا ہے
رسا چغتائی
جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو
میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں
رسا چغتائی
عشق میں بھی سیاستیں نکلیں
قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا
رسا چغتائی
آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی
آج بھی اپنے انتظار میں گم
رسا چغتائی
ہوئیں آنکھیں عجب بے حال اب کے
یہ بارش کر گئی کنگال اب کے
رسا چغتائی

