EN हिंदी
قتیل شفائی شیاری | شیح شیری

قتیل شفائی شیر

75 شیر

قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

قتیل شفائی




رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

قتیل شفائی




رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ پاؤں میں

قتیل شفائی




ستی تو میں ہو جاؤں گی پر یہ مجھے بتا
پہلے اگر میں مر گئی جلے گا تو بھی کیا

قتیل شفائی




شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

the fire,that the flame burns in, for all to see
In that very fire I do burn but namelessly

قتیل شفائی




ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

قتیل شفائی




سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

قتیل شفائی




ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

قتیل شفائی




سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

قتیل شفائی