شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں
the fire,that the flame burns in, for all to see
In that very fire I do burn but namelessly
قتیل شفائی
رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ
قتیل شفائی
رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے
قتیل شفائی
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ پاؤں میں
قتیل شفائی
ستی تو میں ہو جاؤں گی پر یہ مجھے بتا
پہلے اگر میں مر گئی جلے گا تو بھی کیا
قتیل شفائی
سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی
قتیل شفائی
سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا
قتیل شفائی
ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں
قتیل شفائی
قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے
قتیل شفائی

