EN हिंदी
منور رانا شیاری | شیح شیری

منور رانا شیر

64 شیر

مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی

منور رانا




پچپن برس کی عمر تو ہونے کو آ گئی
لیکن وہ چہرہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہو سکا

منور رانا




نکلنے ہی نہیں دیتی ہیں اشکوں کو مری آنکھیں
کہ یہ بچے ہمیشہ ماں کی نگرانی میں رہتے ہیں

منور رانا




منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

منور رانا




مجھے بھی اس کی جدائی ستاتی رہتی ہے
اسے بھی خواب میں بیٹا دکھائی دیتا ہے

منور رانا




محبت ایک پاکیزہ عمل ہے اس لیے شاید
سمٹ کر شرم ساری ایک بوسے میں چلی آئی

منور رانا




مٹی کا بدن کر دیا مٹی کے حوالے
مٹی کو کہیں تاج محل میں نہیں رکھا

منور رانا




مری ہتھیلی پہ ہونٹوں سے ایسی مہر لگا
کہ عمر بھر کے لیے میں بھی سرخ رو ہو جاؤں

منور رانا




لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے
میں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہے

منور رانا