راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
میر اثر
پہلے سو بار ادھر ادھر دیکھا
جب تجھے ڈر کے اک نظر دیکھا
میر اثر
نہ کہا جائے کہ دشمن نہ کہا جائے کہ دوست
کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے اثرؔ کون ہے وہ
میر اثر
آسودگی کہاں جو دل زار ساتھ ہے
مرنے کے بعد بھی یہی آزار ساتھ ہے
میر اثر
کیا کہوں کس طرح سے جیتا ہوں
غم کو کھاتا ہوں آنسو پیتا ہوں
میر اثر
کچھ نہ لکھا نہ پڑھا ہوں ولے ہوں معنی شناس
مدعا تیرا سمجھتا ہوں عبارات سے میں
میر اثر
کن نے کہا اور سے نہ مل تو
پر ہم سے بھی کبھو ملا کر
میر اثر
کام تجھ سے ابھی تو ساقی ہے
کہ ذرا ہم کو ہوش باقی ہے
میر اثر
جس گھڑی گھورتے ہو غصہ سے
نکلے پڑتا ہے پیار آنکھوں میں
میر اثر

