شہر بے آب ہوا جاتا ہے
اپنی آنکھوں میں بچا لوں پانی
خورشید اکبر
سمندر آسماں اس پر ستاروں کا سفینہ
مرا مہتاب غم ہے بیکرانی دیکھنے میں
خورشید اکبر
سہل کیا بار امانت کا اٹھانا ہے فلک
میں سنبھلتا ہوں مرے ساتھ سنبھلتی ہے زمیں
خورشید اکبر
ساحل سے سنا کرتے ہیں لہروں کی کہانی
یہ ٹھہرے ہوئے لوگ بغاوت نہیں کرتے
خورشید اکبر
روتا ہوں تو سیلاب سے کٹتی ہیں زمینیں
ہنستا ہوں تو ڈھ جاتے ہیں کہسار مری جاں
خورشید اکبر
قرآن کا مفہوم انہیں کون بتائے
آنکھوں سے جو چہروں کی تلاوت نہیں کرتے
خورشید اکبر
نہ جانے کیا لکھا تھا اس نے دیوار برہنہ پر
سلامت رہ نہ پائی ایک بھی تحریر پانی میں
خورشید اکبر
نہ جانے کتنے بھنور کو رلا کے آئی ہے
یہ میری کشتیٔ جاں خود کو پار کرتی ہوئی
خورشید اکبر
مٹھی سے ریت پاؤں سے کانٹا نکل نہ جائے
میں دیکھتا رہوں کہیں دنیا نکل نہ جائے
خورشید اکبر

