EN हिंदी
انشاءؔ اللہ خاں شیاری | شیح شیری

انشاءؔ اللہ خاں شیر

33 شیر

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

انشاءؔ اللہ خاں




سانولے تن پہ غضب دھج ہے بسنتی شال کی
جی میں ہے کہہ بیٹھیے اب جے کنھیا لال کی

انشاءؔ اللہ خاں




صنم خانہ جاتا ہوں تو مجھ کو ناحق
نہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا

انشاءؔ اللہ خاں




شیخ جی یہ بیان کرو ہم بھی تو باری کچھ سنیں
آپ کے ہاتھ کیا لگا خلوت و اعتکاف میں

انشاءؔ اللہ خاں




صبح دم مجھ سے لپٹ کر وہ نشے میں بولے
تم بنے باد صبا ہم گل نسرین ہوئے

انشاءؔ اللہ خاں




اس سنگ دل کے ہجر میں چشموں کو اپنے آہ
مانند آبشار کیا ہم نے کیا کیا

انشاءؔ اللہ خاں




یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا

انشاءؔ اللہ خاں




زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہے
یہ آگ عشق کی یارب کدھر سے اتری ہے

انشاءؔ اللہ خاں




عجیب لطف کچھ آپس کے چھیڑ چھاڑ میں ہے
کہاں ملاپ میں وہ بات جو بگاڑ میں ہے

انشاءؔ اللہ خاں