EN हिंदी
حسرتؔ موہانی شیاری | شیح شیری

حسرتؔ موہانی شیر

75 شیر

مجھ سے تنہائی میں گر ملیے تو دیجے گالیاں
اور بزم غیر میں جان حیا ہو جائیے

حسرتؔ موہانی




معلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعا
اب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ہم

حسرتؔ موہانی




مانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دل
پھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا

حسرتؔ موہانی




ملتے ہیں اس ادا سے کہ گویا خفا نہیں
کیا آپ کی نگاہ سے ہم آشنا نہیں

حسرتؔ موہانی




مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو
پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

حسرتؔ موہانی




نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

حسرتؔ موہانی




پیغام حیات جاوداں تھا
ہر نغمۂ کرشن بانسری کا

حسرتؔ موہانی




پیغام حیات جاوداں تھا
ہر نغمۂ کرشن بانسری کا

حسرتؔ موہانی




کوششیں ہم نے کیں ہزار مگر
عشق میں ایک معتبر نہ ہوئی

حسرتؔ موہانی