مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہو
کہ جینے کے لیے مجبور ہوں میں
حفیظ جالندھری
مجھ کو نہ سنا خضر و سکندر کے فسانے
میرے لیے یکساں ہے فنا ہو کہ بقا ہو
حفیظ جالندھری
مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا
مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا
حفیظ جالندھری
مجھے تو اس خبر نے کھو دیا ہے
سنا ہے میں کہیں پایا گیا ہوں
حفیظ جالندھری
نا کامئ عشق یا کامیابی
دونوں کا حاصل خانہ خرابی
حفیظ جالندھری
ناصح کو بلاؤ مرا ایمان سنبھالے
پھر دیکھ لیا اس نے شرارت کی نظر سے
call for the priest, my faith is all askance
she has cast upon me a mischief laden glance
حفیظ جالندھری
ناصح کو بلاؤ مرا ایمان سنبھالے
پھر دیکھ لیا اس نے اسی ایک نظر سے
حفیظ جالندھری
نہیں عتاب زمانہ خطاب کے قابل
ترا جواب یہی ہے کہ مسکرائے جا
حفیظ جالندھری
او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا
اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا
حفیظ جالندھری

