EN हिंदी
فگار اناوی شیاری | شیح شیری

فگار اناوی شیر

33 شیر

کعبے میں ہو یا بت خانے میں ہونے کو تو سر خم ہوتا ہے
ہوتا ہے جہاں تو جلوہ نما کچھ اور ہی عالم ہوتا ہے

فگار اناوی




قدم قدم پہ دونوں جرم عشق میں شریک ہیں
نظر کو بے خطا کہوں کہ دل کو بے خطا کہوں

فگار اناوی




ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی
رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں

فگار اناوی




سر محفل ہمارے دل کو لوٹا چشم ساقی نے
ادھر تقدیر گردش میں ادھر گردش میں جام آیا

فگار اناوی




شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے
مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے

فگار اناوی




ترے غم کے سامنے کچھ غم دو جہاں نہیں ہے
ہے جہاں ترا تصور وہاں این و آں نہیں ہے

فگار اناوی




ان پہ قربان ہر خوشی کر دی
زندگی نذر زندگی کر دی

فگار اناوی




یقین وعدۂ فردا ہمیں باور نہیں آتا
زباں سے لاکھ کہئے آپ کے تیور نہیں کہتے

فگار اناوی




آداب عاشقی سے تو ہم بے خبر نہ تھے
دیوانے تھے ضرور مگر اس قدر نہ تھے

فگار اناوی