EN हिंदी
فرحت احساس شیاری | شیح شیری

فرحت احساس شیر

70 شیر

محبت پھول بننے پر لگی تھی
پلٹ کر پھر کلی کر لی ہے میں نے

فرحت احساس




میری اک عمر اور اک عہد کی تاریخ رقم ہے جس پر
کیسے روکوں کہ وہ آنسو مری آنکھوں سے گرا جاتا ہے

فرحت احساس




مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے
تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں

فرحت احساس




مری محبت میں ساری دنیا کو اک کھلونا بنا دیا ہے
یہ زندگی بن گئی ہے ماں اور مجھ کو بچہ بنا دیا ہے

فرحت احساس




مٹی کی یہ دیوار کہیں ٹوٹ نہ جائے
روکو کہ مرے خون کی رفتار بہت ہے

فرحت احساس




پھر تجھے چھو کے دیکھتا ہوں میں
پھر سے قندیل سی جلائی ہے

فرحت احساس




قصۂ آدم میں ایک اور ہی وحدت پیدا کر لی ہے
میں نے اپنے اندر اپنی عورت پیدا کر لی ہے

فرحت احساس




میرے ہر مصرعے پہ اس نے وصل کا مصرعہ لگایا
سب ادھورے شعر شب بھر میں مکمل ہو گئے تھے

فرحت احساس




پھر سوچ کے یہ صبر کیا اہل ہوس نے
بس ایک مہینہ ہی تو رمضان رہے گا

فرحت احساس