مرے اندر سے یوں پھینکی کسی نے روشنی مجھ پر
کہ پل بھر میں مری ساری حقیقت کھل گئی مجھ پر
عزیز بانو داراب وفا
میرے حالات نے یوں کر دیا پتھر مجھ کو
دیکھنے والوں نے دیکھا بھی نہ چھو کر مجھ کو
عزیز بانو داراب وفا
میری خلوت میں جہاں گرد جمی پائی گئی
انگلیوں سے تری تصویر بنی پائی گئی
عزیز بانو داراب وفا
میری تصویر بنانے کو جو ہاتھ اٹھتا ہے
اک شکن اور مرے ماتھے پہ بنا دیتا ہے
عزیز بانو داراب وفا
مرے اندر ڈھنڈورا پیٹتا ہے کوئی رہ رہ کے
جو اپنی خیریت چاہے وہ بستی سے نکل جائے
عزیز بانو داراب وفا
مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا
پرائی آگ میں کوئی نہ ہاتھ ڈالے گا
عزیز بانو داراب وفا
پکڑنے والے ہیں سب خیمے آگ اور بے ہوش
پڑے ہیں قافلہ سالار مشعلوں کے قریب
عزیز بانو داراب وفا
نکل پڑے نہ کہیں اپنی آڑ سے کوئی
تمام عمر کا پردہ نہ توڑ دے کوئی
عزیز بانو داراب وفا
میرے اندر کوئی تکتا رہا رستہ اس کا
میں ہمیشہ کے لئے رہ گئی چلمن بن کے
عزیز بانو داراب وفا

