کسی کی ذات میں ضم ہو گیا ہوں
میں اپنے آپ میں غم ہو گیا ہوں
اظہر ادیب
صبح کیسی ہے وہاں شام کی رنگت کیا ہے
اب ترے شہر میں حالات کی صورت کیا ہے
اظہر ادیب
تم اس کی باتوں میں نہ آنا
یہ دنیا تو تماشا دیکھتی ہے
اظہر ادیب
تو اپنی مرضی کے سبھی کردار آزما لے
مرے بغیر اب تری کہانی نہیں چلے گی
اظہر ادیب
اسے بام پذیرائی پہ کیسے چھوڑ دوں اب
یہی تنہائی تو میرے لیے سیڑھی بنی ہے
اظہر ادیب
اسی نے سب سے پہلے ہار مانی
وہی سب سے دلاور لگ رہا تھا
اظہر ادیب
وہ دریا ہے اسے رستہ بدلنے کی عادت ہے
ذرا سی بات پر سینے کو صحرا کر لیا تو نے
اظہر ادیب
یہ شخص جو تجھے آدھا دکھائی دیتا ہے
اس آدھے شخص کو اپنا بنا کے دیکھ کبھی
اظہر ادیب
ذرا سی دیر تجھے آئنہ دکھایا ہے
ذرا سی بات پر اتنے خفا نہیں ہوتے
اظہر ادیب

