EN हिंदी
اسعد بدایونی شیاری | شیح شیری

اسعد بدایونی شیر

31 شیر

پرانے گھر کی شکستہ چھتوں سے اکتا کر
نئے مکان کا نقشہ بناتا رہتا ہوں

اسعد بدایونی




لیتا نہیں کسی کا پس مرگ کوئی نام
دنیا کو دیکھنا ہے تو دنیا سے جا کے دیکھ

اسعد بدایونی




میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر
آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر

اسعد بدایونی




مرے بدن پہ زمانوں کی زنگ ہے لیکن
میں کیسے دیکھوں شکستہ ہے آئنہ میرا

اسعد بدایونی




محبتیں بھی اسی آدمی کا حصہ تھیں
مگر یہ بات پرانے زمانے والی ہے

اسعد بدایونی




پرند کیوں مری شاخوں سے خوف کھاتے ہیں
کہ اک درخت ہوں اور سایہ دار میں بھی ہوں

اسعد بدایونی




پرند پیڑ سے پرواز کرتے جاتے ہیں
کہ بستیوں کا مقدر بدلتا جاتا ہے

اسعد بدایونی




پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز
کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ

اسعد بدایونی




وہ ساری باتیں میں احباب ہی سے کہتا ہوں
مجھے حریف کو جو کچھ سنانا ہوتا ہے

اسعد بدایونی