EN हिंदी
عادل منصوری شیاری | شیح شیری

عادل منصوری شیر

38 شیر

مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوں
یہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوں

عادل منصوری




پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالے
پھر کسی آنکھ کے نقطے میں اتارا جاؤں

عادل منصوری




پھر بالوں میں رات ہوئی
پھر ہاتھوں میں چاند کھلا

عادل منصوری




نیند بھی جاگتی رہی پورے ہوئے نہ خواب بھی
صبح ہوئی زمین پر رات ڈھلی مزار میں

عادل منصوری




نشہ سا ڈولتا ہے ترے انگ انگ پر
جیسے ابھی بھگو کے نکالا ہو جام سے

عادل منصوری




کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو
تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو

عادل منصوری




کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

عادل منصوری




کوئی خودکشی کی طرف چل دیا
اداسی کی محنت ٹھکانے لگی

عادل منصوری




پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا
اس گلبدن پہ نقش اٹھ آئے گلاب کے

عادل منصوری