EN हिंदी
عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کے | شیح شیری
aashiq the shahr mein jo purane sharab ke

غزل

عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کے

عادل منصوری

;

عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کے
ہیں ان کے دل میں وسوسے اب احتساب کے

وہ جو تمہارے ہاتھ سے آ کر نکل گیا
ہم بھی قتیل ہیں اسی خانہ خراب کے

پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا
اس گلبدن پہ نقش اٹھ آئے گلاب کے

سوئے تو دل میں ایک جہاں جاگنے لگا
جاگے تو اپنی آنکھ میں جالے تھے خواب کے

بس تشنگی کی آنکھ سے دیکھا کرو انہیں
دریا رواں دواں ہیں چمکتے سراب کے

اوکاڑہ اتنی دور نہ ہوتا تو ایک دن
بھر لاتے سانس سانس میں گل آفتاب کے

کس طرح جمع کیجیے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے