قد سرو چشم نرگس رخ گل دہان غنچہ
کرتا ہوں دیکھ تم کوں سیر چمن ممولا
آبرو شاہ مبارک
مل گیا تھا باغ میں معشوق اک نک دار سا
رنگ و رو میں پھول کی مانند سج میں خار سا
آبرو شاہ مبارک
مفلسی سیں اب زمانے کا رہا کچھ حال نئیں
آسماں چرخی کے جوں پھرتا ہے لیکن مال نئیں
آبرو شاہ مبارک
نمکیں گویا کباب ہیں پھیکے شراب کے
بوسا ہے تجھ لباں کا مزیدار چٹ پٹا
آبرو شاہ مبارک
پھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے
وے عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے
آبرو شاہ مبارک
روونے نیں مجھ دوانے کے کیا سیانوں کا کام
سیل سیں انجہواں کے سارا شہر ویراں ہو گیا
آبرو شاہ مبارک
ساتھ میرے تیرے جو دکھ تھا سو پیارے عیش تھا
جب سیں تو بچھڑا ہے تب سیں عیش سب غم ہو گیا
آبرو شاہ مبارک
مل گئیں آپس میں دو نظریں اک عالم ہو گیا
جو کہ ہونا تھا سو کچھ انکھیوں میں باہم ہو گیا
آبرو شاہ مبارک
قول آبروؔ کا تھا کہ نہ جاؤں گا اس گلی
ہو کر کے بے قرار دیکھو آج پھر گیا
آبرو شاہ مبارک

