EN हिंदी
اشق شیاری | شیح شیری

اشق

422 شیر

مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا
تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

عباس تابش




یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عباس تابش




ظاہراً موت ہے قضا ہے عشق
پر حقیقت میں جاں فزا ہے عشق

عبد الغفور نساخ




حسن اک دل ربا حکومت ہے
عشق اک قدرتی غلامی ہے

عبد الحمید عدم




لوگ کہتے ہیں کہ تم سے ہی محبت ہے مجھے
تم جو کہتے ہو کہ وحشت ہے تو وحشت ہوگی

عبد الحمید عدم




پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو
اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں

عبد الحمید عدم




عشق ہے بے گداز کیوں حسن ہے بے نیاز کیوں
میری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا

عبد المجید سالک