EN हिंदी
ضمیر خاک شہہ دو سرا میں روشن ہے | شیح شیری
zamir-e-KHak shah-e-do-sara mein raushan hai

غزل

ضمیر خاک شہہ دو سرا میں روشن ہے

ابو الحسنات حقی

;

ضمیر خاک شہہ دو سرا میں روشن ہے
مرا خدا مرے حرف دعا میں روشن ہے

وہ آندھیاں تھیں کہ میں کب کا بجھ گیا ہوتا
چراغ ذات بھی حمد و ثنا میں روشن ہے

میں اپنی ماں کے وسیلے سے زندہ تر ٹھہروں
کہ وہ لہو مرے صبر و رضا میں روشن ہے

میں بڑھ رہا ہوں ادھر یا وہ آ رہا ہے ادھر
وہی خوشی وہی خوشبو ہوا میں روشن ہے

کہیں بھی جاؤں ستارہ سا ساتھ رہتا ہے
وہ شب چراغ جو اس کی ہوا میں روشن ہے