EN हिंदी
زمین کو پھول فضا کو گھٹائیں دیتا ہے | شیح شیری
zamin ko phul faza ko ghaTaen deta hai

غزل

زمین کو پھول فضا کو گھٹائیں دیتا ہے

خالد احمد

;

زمین کو پھول فضا کو گھٹائیں دیتا ہے
مجھے فلک سے وہ اب تک صدائیں دیتا ہے

وہی نوا گر عالم خدائے صوت و صدا
وہی ہوا کو فقط سائیں سائیں دیتا ہے

وہی کہیں گل نغمہ کہیں گل نوحہ
وہی غموں کو سروں کی قبائیں دیتا ہے

وہ کوہسار تخیر وہ آبشار ندا
خموشیوں کو بھی کیا کیا ندائیں دیتا ہے

کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے
اسی لیے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے