زمیں کے جسم پہ یوں یورش قضا کب تک
فلک نشینوں یوں ہی غم کا سلسلہ کب تک
ابھی سے اٹھنے لگے ہیں سوال کے لشکر
تو پھر اے رقص فسوں شور بے صدا کب تک
ستارے اپنی ضیا کا لباس دے نہ سکے
عروس شب کے بدن پر پھٹی ردا کب تک
تمام عمر لہو کا خراج بخشیں گے
رہے گا طوق و سلاسل سے واسطہ کب تک
ہوائیں شاخ فلک سے صدا لگاتی ہیں
غبار راہ میں رہ پائے گی انا کب تک
سکوت شام سے گھبرا نہ اے شفق تابی
رکا رہے گا بھلا شب کا قافلہ کب تک
لکھو بھی لمحۂ بے تن پہ زندگی عامرؔ
لکھو گے اپنے مقدر کا مرثیہ کب تک
غزل
زمیں کے جسم پہ یوں یورش قضا کب تک
عامر نظر

