EN हिंदी
زمیں کے جسم پہ یوں یورش قضا کب تک | شیح شیری
zamin ke jism pe yun yurish-e-qaza kab tak

غزل

زمیں کے جسم پہ یوں یورش قضا کب تک

عامر نظر

;

زمیں کے جسم پہ یوں یورش قضا کب تک
فلک نشینوں یوں ہی غم کا سلسلہ کب تک

ابھی سے اٹھنے لگے ہیں سوال کے لشکر
تو پھر اے رقص فسوں شور بے صدا کب تک

ستارے اپنی ضیا کا لباس دے نہ سکے
عروس شب کے بدن پر پھٹی ردا کب تک

تمام عمر لہو کا خراج بخشیں گے
رہے گا طوق و سلاسل سے واسطہ کب تک

ہوائیں شاخ فلک سے صدا لگاتی ہیں
غبار راہ میں رہ پائے گی انا کب تک

سکوت شام سے گھبرا نہ اے شفق تابی
رکا رہے گا بھلا شب کا قافلہ کب تک

لکھو بھی لمحۂ بے تن پہ زندگی عامرؔ
لکھو گے اپنے مقدر کا مرثیہ کب تک