EN हिंदी
زہر کے تیر مرے چاروں طرف کھینچتا ہے | شیح شیری
zahr ke tir mere chaaron taraf khinchta hai

غزل

زہر کے تیر مرے چاروں طرف کھینچتا ہے

قمر صدیقی

;

زہر کے تیر مرے چاروں طرف کھینچتا ہے
کیا عجب شخص ہے اپنوں پہ ہدف کھینچتا ہے

پھر وہی دل میں اداسی کے امڈتے بادل
پھر وہی سلسلۂ خاک و خذف کھینچتا ہے

پھر وہی قہر وہی فتنۂ دجال کے دن
پھر وہی قصۂ اصحاب کہف کھینچتا ہے

کون سی سوئی ہوئی پیاس کا رشتہ جاگا
آج کیوں مجھ کو یہ صحرائے نجف کھینچتا ہے

کون سے لوگ تھے ظلمات کے صحراؤں میں
کہ جنہیں مرتبۂ عز و شرف کھینچتا ہے