EN हिंदी
زباں پہ خود بخود عرض محبت آئی جاتی ہے | شیح شیری
zaban pe KHud-baKHud arz-e-mohabbat aai jati hai

غزل

زباں پہ خود بخود عرض محبت آئی جاتی ہے

مشتاق نقوی

;

زباں پہ خود بخود عرض محبت آئی جاتی ہے
کھلے پڑتے ہیں ارماں زندگی شرمائی جاتی ہے

بلاوے آ رہے ہیں منزلوں کے شام سے لیکن
تمناؤں کو ان کی گود میں نیند آئی جاتی ہے

وہ آئے ہیں تسلی کے لئے لیکن یہ عالم ہے
نگاہیں نم ہیں لو آواز کی تھرائی جاتی ہے

دماغ و دل کی ساری کشمکش بے کار و لا حاصل
نشے کی طرح اس کی یاد سب پر چھائی جاتی ہے

نہیں کچھ تیرے باعث یہ اداسی بد گماں مت ہو
جہاں جاتا ہوں میرے ساتھ یہ تنہائی جاتی ہے