EN हिंदी
ضابطوں کی اور قدروں کی روانی دیکھنا | شیح شیری
zabton ki aur qadron ki rawani dekhna

غزل

ضابطوں کی اور قدروں کی روانی دیکھنا

پرتپال سنگھ بیتاب

;

ضابطوں کی اور قدروں کی روانی دیکھنا
پھر ہوا میں چار سو اک بد گمانی دیکھنا

لمحہ لمحہ پھیلتا ہی جا رہا ہے چار سو
شہر میں جنگل کی اک دن بیکرانی دیکھنا

چاہتا ہے وہ مجھے خوش دیکھنا ہر حال میں
چھین لے گا مجھ سے میری نوحہ خوانی دیکھنا

آنے والی اور ابھی راتیں ہیں تاریک و مہیب
اور اتریں گی بلائیں آسمانی دیکھنا

دھوپ نکلے گی تو بہہ نکلیں گے پھر سے آبشار
برف دہرائے گی پھر اپنی کہانی دیکھنا

اپنا گھر ہم نے بسایا ہے لب دریا تو پھر
بام و در تک آئے گا اک روز پانی دیکھنا

آئیں گے بیتابؔ موسم پھر چناروں پر نئے
لائیں گے رنگوں کی اک تازہ کہانی دیکھنا