EN हिंदी
یورش آلام ہے لیکن مرا دل ایک ہے | شیح شیری
yurish-e-alam hai lekin mera dil ek hai

غزل

یورش آلام ہے لیکن مرا دل ایک ہے

عزیز وارثی

;

یورش آلام ہے لیکن مرا دل ایک ہے
سینکڑوں موجوں کی زد میں آج ساحل ایک ہے

یوں تو ہیں لاکھوں حسیں الفت کے قابل ایک ہے
چار جانب ہیں شعاعیں ماہ کامل ایک ہے

آہ سوزاں نالۂ شب گیر یا ضبط و سکوں
بد نصیبوں کے لئے ان سب کا حاصل ایک ہے

قیس ہو فرہاد ہو وامق ہو یا محمود ہو
ہیں نگاہیں مختلف لیلیٰ محمل ایک ہے

دامن ہر موج ہی اپنا تو ساحل ہے عزیزؔ
کون کہتا ہے کہ بحر غم میں ساحل ایک ہے