EN हिंदी
یوں ہی کر لیتے ہیں اوقات بسر اپنا کیا | شیح شیری
yunhi kar lete hain auqat basar apna kya

غزل

یوں ہی کر لیتے ہیں اوقات بسر اپنا کیا

فاروق نازکی

;

یوں ہی کر لیتے ہیں اوقات بسر اپنا کیا
اپنے ہی شہر میں ہیں شہر بدر اپنا کیا

رات لمبی ہے چلو غیبت یاراں کر لیں
شب کسی طور تو ہو جائے بسر اپنا کیا

دوریاں فاصلے دشوار گزر گاہیں ہیں
ہے یہی شرط سفر رخت سفر اپنا کیا

تجھ سے اب اذن تکلم بھی اگر مل جائے
لب ہلیں یا نہ ہلیں آنکھ ہو تر اپنا کیا

جام پھر تازہ کرو رات بہت لمبی ہے
کچھ تو کرنا ہے میاں تا بہ سحر اپنا کیا