یوں حجرۂ خیال میں بیٹھا ہوا ہوں میں
گویا مرا وجود نہیں واہمہ ہوں میں
پھیلا ہے جب سے گھر میں سمندر سکوت کا
بے چارگی کی چھت پہ کھڑا چیختا ہوں میں
دیکھو مری جبیں پہ مرے عہد کے نقوش
رکھو مجھے سنبھال کے اک آئنہ ہوں میں
اب تک شب قیام کا اک سلسلہ بھی تھا
اب آفتاب بن کے سفر پر چلا ہوں میں
خود سے تو روشناس ابھی تک نہ ہو سکا
یہ اتفاق ہے کہ جو تم سے ملا ہوں میں

غزل
یوں حجرۂ خیال میں بیٹھا ہوا ہوں میں
فاروق مضطر