EN हिंदी
یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں | شیح شیری
ye zinda rahne ka mausam guzar na jae kahin

غزل

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں

اسعد بدایونی

;

یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں
اب آ بھی جاؤ دل زار مر نہ جائے کہیں

مرا ستارا تو اب تک نظر نہیں آیا
میں ڈر رہا ہوں کہ یہ شب گزر نہ جائے کہیں

ندی کنارے کھڑا پیڑ سوچ میں گم ہے
کوئی بھنور اسے برباد کر نہ جائے کہیں

پرندے اپنے ٹھکانوں کو خیر سے پہنچے
دعا یہی ہے کہ کوئی ٹھہر نہ جائے کہیں

گلا بھی خود سے ہے اور سلسلہ بھی خود سے ہے
ہماری بات ادھر سے ادھر نہ جائے کہیں