EN हिंदी
یہ اجالا ہر اک شے کو چمکا گیا | شیح شیری
ye ujala har ek shai ko chamka gaya

غزل

یہ اجالا ہر اک شے کو چمکا گیا

مشتاق نقوی

;

یہ اجالا ہر اک شے کو چمکا گیا
آئنہ دل کا کچھ اور دھندلا گیا

آج مغموم ہے وہ سر آئینہ
زلف الجھی تو میرا خیال آ گیا

اپنی بربادیوں کا مجھے غم نہیں
غم یہ ہے کس طرح تجھ سے دیکھا گیا

اتنی فرصت کہاں تھی کہ ہم سوچتے
عشق میں کیا ہوا، کیا ملا، کیا گیا

لٹ گیا جہد ہستی میں احساس بھی
زندگی کے لئے ہائے کیا کیا گیا

جس کے ہونٹوں کے دامن میں کچھ بھی نہ تھا
جب اٹھا بزم سے گیت برسا گیا