EN हिंदी
یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا | شیح شیری
ye tera ishq kab ka aashna tha

غزل

یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا

میر سوز

;

یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھا
کہاں کا جان کو میری دھرا تھا

وہ ساعت کون سی تھی یا الٰہی
کہ جس ساعت دو چار اس سے ہوا تھا

میں کاش اس وقت آنکھیں موند لیتا
کہ میرا دیکھنا مجھ پر بلا تھا

میں اپنے ہاتھ اپنے دل کو کھویا
خداوندا میں کیوں عاشق ہوا تھا

نہ تھا اس وقت جز اللہ کوئی
ولے یہ سوزؔ پہلو میں کھڑا تھا