EN हिंदी
یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا | شیح شیری
ye suKHan jo meri zaban pe hai ye suKHan hai us ka kaha hua

غزل

یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا

محسن زیدی

;

یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا
یہ بیاں جو ہے مرے نام سے یہ بیاں ہے اس کا لکھا ہوا

وہی میلی میلی سی چاندنی وہی دھندلی دھندلی سی روشنی
یہ چراغ کوئی چراغ ہے نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا

وہی ایک یاد کرن کرن مری زندگی میں ہے ضو فگن
وہی ایک چہرہ چمن چمن سر دشت جاں ہے کھلا ہوا

سر راہ کچھ نہ پتا چلا وہ کہاں گیا وہ کدھر گیا
کہیں نقش پا تھا بنا ہوا کہیں نقش پا تھا مٹا ہوا

کروں دوستوں کو میں نذر کیا مرے پاس دام و درم کہاں
وہ جو دشمنوں کا حساب تھا وہ تو نقد جاں سے ادا ہوا

نہ کسی کی یاد کا نقش ہے نہ کسی کے رخ کا یہ عکس ہے
یہ نہ کوئی حرف نہ لفظ ہے سر خاک کیا ہے لکھا ہوا

مجھے محسنؔ اس کا گلہ نہیں مجھے مال و زر جو ملا نہیں
جو ہنر سخن کا مجھے ملا وہ کہاں سبھی کو عطا ہوا