EN हिंदी
یہ سوچ کر میں رکا تھا کہ تو پکارے گا | شیح شیری
ye soch kar main ruka tha ki tu pukarega

غزل

یہ سوچ کر میں رکا تھا کہ تو پکارے گا

راشد انور راشد

;

یہ سوچ کر میں رکا تھا کہ تو پکارے گا
کسے خبر تھی کھنڈر چار سو پکارے گا

کبھی تو شاخ‌ تعلق میں پھول آئیں گے
کبھی تو سرد بدن کو لہو پکارے گا

میں ایک پل کے لیے بھی اگر ہوا اوجھل
مرا جنون مجھے کو بہ کو پکارے گا

زمین اس کے لیے تنگ ہوتی جائے گی
خدائے عشق کو جو بے وضو پکارے گا

کسی طرح بھی اشاروں سے مطمئن نہ ہوا
شعور ذات تجھے روبرو پکارے گا