یہ دل اب مجھ سے تھوڑی دیر سستانے کو کہتا ہے
اور آنکھیں موند کر ہر بات دہرانے کو کہتا ہے
ہماری گمرہی کی بات ہی چھوڑو کہ ہر جادہ
کہیں تک خود کو اب ہم سے ہی پہنچانے کو کہتا ہے
رہی ہو وجہ کوئی بھی الگ تو ہو گئے تھے سب
یہ مجھ میں کون پھر سب کو بلا لانے کو کہتا ہے
مری مشکل کو لیکن کوئی جانے بھی تو کیا جانے
قدم جو بھی بڑھاتا ہوں پلٹ آنے کو کہتا ہے
رہا یوں عمر بھر جائے اماں پانے کو سر گرداں
مرا سایہ بھی اب مجھ میں سما جانے کو کہتا ہے
بہت عرصہ ہوا محسوس تک ہم کو کیے ایسا
کوئی ہم کو اکیلا چھوڑ کر جانے کو کہتا ہے
کہیں ہم آئیں جائیں تو ذرا کھل جائیں بھی خود پر
یہاں ہر سانس جیسے خود سے کترانے کو کہتا ہے
ادھر سچ ہے اکیلا چل رہا ہے کھویا کھویا سا
برابر چل رہا ہے جھوٹ اپنانے کو کہتا ہے
یہیں ہم گھر میں ہوتے ہیں تو پھر کیوں تلخؔ ایسا ہے
ہر اک لمحہ ہمیں جس طرح گھر آنے کو کہتا ہے

غزل
یہ دل اب مجھ سے تھوڑی دیر سستانے کو کہتا ہے
منموہن تلخ