EN हिंदी
یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں | شیح شیری
yar ruTha hai hum sen manta nahin

غزل

یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں

آبرو شاہ مبارک

;

یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں
دل کی گرمی سیں کچھ او پہنتا نہیں

تجھ کو گہنا پہنا کے میں دیکھوں
حیف ہے یہ بناؤ بنتا نہیں

جن نیں اس نوجوان کو برتا
وہ کسی اور کو برتتا نہیں

کوفت چہرے پہ شب کی ظاہر ہے
کیوں کے کہیے کہ کچھ چنتا نہیں

شوق نہیں مجھ کوں کچھ مشیخت کا
جال مکڑی کی طرح تنتا نہیں

تیرے تن کا خمیر اور ہی ہے
آب و گل اس صفا سیں سنتا نہیں

جیو دنیا بھی کام ہے لیکن
آبروؔ بن کوئی کرنتا نہیں