وہ خالی ہاتھ سفر آب پر روانہ ہوا
خبر نہ تھی کہ سمندر تہی خزانہ ہوا
بچھڑتے وقت تھا دل میں غبار اس سے مگر
سخن ہی تلخ نہ لہجہ شکایتانہ ہوا
ہوا بھی تیز نہ تھی معتدل تھا موسم بھی
زمین پاؤں کے نیچے تھی اک زمانہ ہوا
غزل
وہ خالی ہاتھ سفر آب پر روانہ ہوا
فرخ جعفری

