وہ کہتے ہیں یقیں لانا پڑے گا
یہ دھوکہ جان کر کھانا پڑے گا
زمانہ کو بدلنا ہم نے ٹھانا
زمانہ کو بدل جانا پڑے گا
سلامت ہے ہمارا جذب الفت
تم آؤ گے تمہیں آنا پڑے گا
یہی مرضی ہے اس آرام جاں کی
ہمیں اب جان سے جانا پڑے گا
دل ناداں سمجھ جائے گا لیکن
دل ناداں کو سمجھانا پڑے گا
عدو کے ناز اٹھتے کون دیکھے
تری محفل میں اٹھ جانا پڑے گا
نہیں اے سنگ دل ہاں وو نہیں تو
کیے پر جس کو پچھتانا پڑے گا
بڑا بد راہ ہے چرخ ستم گر
اسے اب راہ پر لانا پڑے گا
پڑا ہے اے وفاؔ پالا بتوں سے
خدا کو درمیاں لانا پڑے گا
غزل
وہ کہتے ہیں یقیں لانا پڑے گا
میلہ رام وفاؔ

