EN हिंदी
وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے | شیح شیری
wo charcha ji ke jhanjhaT ka hua hai

غزل

وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے

خالد احمد

;

وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے
کہ دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے

وہ مصرع تھا کہ اک گل رنگ چہرہ
ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے

ہم ان آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں
یہ ہاتھ اس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے

یقینی ہے اب اس دل کی تباہی
یہ قریہ راہ سے بھٹکا ہوا ہے

گلہ اس کا کریں کس دل سے خالدؔ
یہ دل کب ایک چوکھٹ کا ہوا ہے