EN हिंदी
وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے | شیح شیری
waqt se kahiyo zara kam kam chale

غزل

وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے

منیر نیازی

;

وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے
کون یاد آیا ہے آنسو تھم چلے

دم بخود کیوں ہے خزاں کی سلطنت
کوئی جھونکا کوئی موج غم چلے

چار سو باجیں پلوں کی پائلیں
اس طرح رقاصۂ عالم چلے

دیر کیا ہے آنے والے موسمو
دن گزرتے جا رہے ہیں ہم چلے

کس کو فکر گنبد قصر حباب
آب جو پیہم چلے پیہم چلے