EN हिंदी
اس بندہ کی چاہ دیکھئے گا | شیح شیری
us banda ki chah dekhiyega

غزل

اس بندہ کی چاہ دیکھئے گا

انشاءؔ اللہ خاں

;

اس بندہ کی چاہ دیکھئے گا
اور اس کا نباہ دیکھئے گا

میں کیسے نباہتا ہوں تم سے
انشا اللہ دیکھئے گا

فوجیں اشکوں کی تل رہی ہیں
یہ حشمت و جاہ دیکھئے گا

عاشق مجھے جان کرتے ہیں قتل
تقصیر و گناہ دیکھئے گا

انشاؔ سے آپ اب خفا ہیں
یوں بھر کے نگاہ دیکھئے گا