EN हिंदी
ان کو میں نے اپنا کہا ہے | شیح شیری
un ko maine apna kaha hai

غزل

ان کو میں نے اپنا کہا ہے

آسی رام نگری

;

ان کو میں نے اپنا کہا ہے
اتنی ہی بس اپنی خطا ہے

راہی حیراں دیکھ رہا ہے
رہزن ہی اب راہنما ہے

یہ دل ان سے جب سے لگا ہے
ان کے سوا سب بھول گیا ہے

اس جینے سے باز ہم آئے
جینا کیا ہے ایک سزا ہے

لب کھلتے ہی پھول ہیں جھڑتے
کتنی پیاری ان کی ادا ہے