EN हिंदी
اجالا جب شب‌ ظلمات پر اترتا ہے | شیح شیری
ujala jab shab-e-zulmat par utarta hai

غزل

اجالا جب شب‌ ظلمات پر اترتا ہے

عزم شاکری

;

اجالا جب شب‌ ظلمات پر اترتا ہے
وہ حرف حرف مری ذات پر اترتا ہے

اس ایک رنگ پہ قربان دل کے سب موسم
جو رنگ شدت جذبات پر اترتا ہے

وہ خواب گاہ کی رونق وہ چاند جیسا بدن
کبھی حیات کبھی ذات پر اترتا ہے

سخن وران کہن اس پہ رشک کرتے ہیں
جو درد پرچۂ ابیات پر اترتا ہے

کبھی کبھار تو سقراط کی ردا بن کر
شعور فکر طلسمات پر اترتا ہے