ٹوٹی ہوئی دیوار کا سایہ تو نہیں ہوں
میں تیرا ہی بھولا ہوا وعدہ تو نہیں ہوں
گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے تو شب ماہ
میں ہی وہ ترا باغ تمنا تو نہیں ہوں
جس نقش پہ چلنے کی قسم کھاتی ہے دنیا
میں ہی وہ ترا نقش کف پا تو نہیں ہوں
اوروں سے مرا نام الجھتا ہے تو الجھے
شکوہ تجھے کیوں ہو کہ میں تیرا تو نہیں ہوں
کیوں خود کو نہ چاہوں کہ ترا دل تو نہیں میں
کیوں خود کو بھلا دوں کہ زمانہ تو نہیں ہوں
تو میری ضرورت مری عادت تو نہیں ہے
مہتاب زمیں میں ترا ہالہ تو نہیں ہوں
باغوں سے اڑائی ہوئی خوشبو ہی سہی تو
میں نکہت بے باک کا پردہ تو نہیں ہوں
میں عکس گریزاں تو نہیں اپنی انا کا
میں تیرا ہی ٹوٹا ہوا رشتہ تو نہیں ہوں
میں آخری جادو تو نہیں ساحر شب کا
سہما ہوا میں صبح کا تارا تو نہیں ہوں
غزل
ٹوٹی ہوئی دیوار کا سایہ تو نہیں ہوں
مظہر امام

